Playing via Spotify Playing via YouTube
Skip to YouTube video

Loading player…

Scrobble from Spotify?

Connect your Spotify account to your Last.fm account and scrobble everything you listen to, from any Spotify app on any device or platform.

Connect to Spotify

Dismiss

A new version of Last.fm is available, to keep everything running smoothly, please reload the site.

Jao Ke Na Ab Dair Karo - Lyrics

علامہ حافظ کفایت حسین صاحب قبلہ کا جملہ پڑھ رہا ہوں دوستو
بڑا عجیب جملہ ہے اگر سمجھ گئے تو بہت رؤ گے جملہ ایک ہی ہے
کہا حسن اور حسین کے جنازے میں بس اتنا فرق ہے
حسن کے جنازے میں تیر تھے، حسین کا جنازہ تیروں پر تھا
کیا سُن رہے ہو عزادارو!
حسن کے جنازے میں تیر تھے، حسین کا جنازہ تیروں پر تھا
حسین کا جنازہ تیروں پر معلق ہو گیا تھا
تیروں کے آسمان سے
حسین نے جب زمین کی طرف جھک کر دیکھا
تو حسین کی اجڑی ہوئی ماں
اپنی گود پھلائے
زمینِ کربلا میں بیٹھی
کہہ رہی تھی آ جا حسین آ جا
میں نے تیرا مقتل اپنے بالوں سے صاف کر دیا ہے
قافلہ لُٹ گیا
اماں میرا لشکر نہ رہا
اماں نانا کی نشانی
علی اکبر نہ رہا
رہ گیا دردِ کمر ھائے
برادر نہ رہا
اب خبر آپ نے کی گھر کی کہ جب
گھر نہ رہا
اور اب دمِ ذبح یہ پورے میرے ارماں کرنا
عرش کے نیچے نہ بالوں کو پریشاں کرنا
جاؤ کہ نہ اب دیر کرو
دیکھو نہ اماں
اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
جاؤ کہ نہ اب دیر کرو
دیکھو نہ اماں
اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
جاؤ کہ نہ اب دیر کرو
آپ آئی ہیں اماں میں سلامی کو نہ اُٹھا
ہے درد کلیجے میں جو اٹھنے نہیں دیتا
حسرت تھی تیرے پہلو میں دم میرا نکلتا
میں چین سے سو جاتا تیری گود میں مادر
کہ اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
جاؤ کہ نہ اب دیر کرو
دیکھو نہ اماں
اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
کچھ دیر میں نیزے پہ رکھا ہو گا میرا سر
نہ دیکھنا اس وقت مجھے مادرِ مضطر
چل جائے گا اس وقت تیرے قلب پہ خنجر
گھوڑے ابھی دوڑیں گے میری لاش کے اوپر
کہ اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
جاؤ کہ نہ اب دیر کرو
دیکھو نہ اماں
اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
میں صبح سے تا عصر اٹھاتا رہا لاشے
دامن میں چُنے قاسمِ نو شاہ کے ٹکڑے
لپٹا علی اکبر کا کلیجہ تھا سناں سے
اماں میرے چہرے پہ ہے خونِ علی اصغر
کہ اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
جاؤ کہ نہ اب دیر کرو
دیکھو نہ اماں
اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
کس حال میں ہے اماں تیری گود کا پالا
مقتل میں میرا کھو گیا ہر ایک اجالا
ہے کون سکینہ کو میری پوچھنے والا
سوئے گی میرے سینے پہ کیسے میری دختر
کہ اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
جاؤ کہ نہ اب دیر کرو
دیکھو نہ اماں
اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
دیکھو تو قیامت ہے بپا اہلِ حرم میں
خیمے سے نکل آئی ہے زینب میرے غم میں
اب آنے کو ہیں بیبیاں باہر کوئی دم میں
سمجھاؤ انہیں اماں رہیں خیمے کے اندر
کہ اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
جاؤ کہ نہ اب دیر کرو
دیکھو نہ اماں
اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
لو سانس اُکھڑنے لگی دل ڈوب رہا ہے
نظروں میں میری زینبِ مضطر کی ردا ہے
عابد سے تھی امید سو وہ غش میں پڑا ہے
کیا ہو گا میرے بعد سکینہ کا مقدر
کہ اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
جاؤ کہ نہ اب دیر کرو
دیکھو نہ اماں
اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
اے سرور و ریحان بیاں کیسے ہو منظر
شہ کہتے تھے اماں یہ کڑا وقت ہے مجھ پر
کس طرح کلیجے سے لگوں آپ کے اٹھ کر
چوموں گا قدم آپ کے اب میں لبِ کوثر
کہ اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
جاؤ کہ نہ اب دیر کرو
دیکھو نہ اماں
اب لال تیرا زین پہ ہے اور نہ زمیں پر
جاؤ کہ نہ اب دیر کرو

Don't want to see ads? Subscribe now

API Calls